صفی لکھنوی
غزل 7
نظم 1
اشعار 9
جنازہ روک کر میرا وہ اس انداز سے بولے
گلی ہم نے کہی تھی تم تو دنیا چھوڑے جاتے ہو
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
غزل اس نے چھیڑی مجھے ساز دینا
ذرا عمر رفتہ کو آواز دینا
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
مری نعش کے سرہانے وہ کھڑے یہ کہہ رہے ہیں
اسے نیند یوں نہ آتی اگر انتظار ہوتا
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
دیکھے بغیر حال یہ ہے اضطراب کا
کیا جانے کیا ہو پردہ جو اٹھے نقاب کا
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
بناوٹ ہو تو ایسی ہو کہ جس سے سادگی ٹپکے
زیادہ ہو تو اصلی حسن چھپ جاتا ہے زیور سے
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے