Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Safar Naqvi's Photo'

سفر نقوی

1998 | دلی, انڈیا

نئی نسل کے نمائندہ شاعروں میں شامل، غزل کی ایک ابھرتی ہوئی آواز، شاعری میں عناصر کربلا کو ایک زندہ احساس کے طور پر پیش کرنے کے لیے مشہور

نئی نسل کے نمائندہ شاعروں میں شامل، غزل کی ایک ابھرتی ہوئی آواز، شاعری میں عناصر کربلا کو ایک زندہ احساس کے طور پر پیش کرنے کے لیے مشہور

سفر نقوی

غزل 19

نظم 2

 

اشعار 5

ہم ایسے جائیں گے لے کر بلائیں دنیا کی

کہیں نہ ہوگا کوئی حادثہ ہمارے بعد

ہم سے طے ہوگا زمانے میں بلندی کا وقار

نوک نیزہ سے بھی ہم نیچے نہیں دیکھیں گے

ادھر وہ صحرا میں خاک دھنتا ادھر وہ دریا کنارے گم صم

عجیب ہوتے ہیں یہ تعلق مسافروں کے مسافروں سے

اداس آنکھوں کی ویران مانگ بھرنے کو

یہ نیند خواب کا سندور لے کے آئی ہے

خوب جانتا ہے یہ اک فقیر ہاتھوں میں

کب ہے بے کسی رکھنا کب ہے معجزہ رکھنا

ویڈیو 8

This video is playing from YouTube

ویڈیو کا زمرہ
کلام شاعر بہ زبان شاعر

سفر نقوی

سفر نقوی

سفر نقوی

سفر نقوی

سفر نقوی

تصویر کی تھوڑی سی وضاحت ہی تو کی ہے

سفر نقوی

حرف_مہمل ہیں کہاں ورد_زباں ہوتے ہیں

سفر نقوی

دیگر شعرا کو پڑھیے

 

Recitation

بولیے