پنڈت جواہر ناتھ ساقی
غزل 37
اشعار 26
فلک پہ چاند ستارے نکلتے ہیں ہر شب
ستم یہی ہے نکلتا نہیں ہمارا چاند
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
ہم کو بھرم نے بحر توہم بنا دیا
دریا سمجھ کے کود پڑے ہم سراب میں
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
وہ ماہ جلوہ دکھا کر ہمیں ہوا روپوش
یہ آرزو ہے کہ نکلے کہیں دوبارا چاند
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
قالب کو اپنے چھوڑ کے مقلوب ہو گئے
کیا اور کوئی قلب ہے اس انقلاب میں
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
سکہ اپنا نہیں جمتا ہے تمہارے دل پر
نقش اغیار کے کس طور سے جم جاتے ہیں
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے