مصطفی شہاب
غزل 21
اشعار 22
ذہن میں یاد کے گھر ٹوٹنے لگتے ہیں شہابؔ
لوگ ہو جاتے ہیں جی جی کے پرانے کتنے
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
ایسا بھی کبھی ہو میں جسے خواب میں دیکھوں
جاگوں تو وہی خواب کی تعبیر بتائے
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
گو ترک تعلق میں بھی شامل ہیں کئی دکھ
بے کیف تعلق کے بھی آزار بہت ہیں
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
میں سچ سے گریزاں ہوں اور جھوٹ پہ نادم ہوں
وہ سچ پہ پشیماں ہے اور جھوٹ پر آمادہ
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
کہا تھا میں نے کھو کر بھی تجھے زندہ رہوں گا
وہ ایسا جھوٹ تھا جس کو نبھانا پڑ گیا ہے
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے