فگار اناوی
غزل 16
اشعار 33
مایوس دلوں کو اب چھیڑو بھی تو کیا حاصل
ٹوٹے ہوئے پیمانے فریاد نہیں کرتے
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
فضا کا تنگ ہونا فطرت آزاد سے پوچھو
پر پرواز ہی کیا جو قفس کو آشیاں سمجھے
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
دل ہے مرا رنگینیٔ آغاز پہ مائل
نظروں میں ابھی جام ہے انجام نہیں ہے
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
اک تیرا آسرا ہے فقط اے خیال دوست
سب بجھ گئے چراغ شب انتظار میں
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
ساقی نے نگاہوں سے پلا دی ہے غضب کی
رندان ازل دیکھیے کب ہوش میں آئیں
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے