بقا بلوچ
غزل 9
نظم 4
اشعار 13
زندگی سے زندگی روٹھی رہی
آدمی سے آدمی برہم رہا
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
گرمیٔ شدت جذبات بتا دیتا ہے
دل تو بھولی ہوئی ہر بات بتا دیتا ہے
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
جسم اپنے فانی ہیں جان اپنی فانی ہے فانی ہے یہ دنیا بھی
پھر بھی فانی دنیا میں جاوداں تو میں بھی ہوں جاوداں تو تم بھی ہو
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
ایک الجھن رات دن پلتی رہی دل میں کہ ہم
کس نگر کی خاک تھے کس دشت میں ٹھہرے رہے
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
میں کنارے پہ کھڑا ہوں تو کوئی بات نہیں
بہتا رہتا ہے تری یاد کا دریا مجھ میں
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے