احمد شناس
غزل 17
اشعار 28
جانکاری کھیل لفظوں کا زباں کا شور ہے
جو بہت کم جانتا ہے وہ یہاں شہ زور ہے
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
لفظوں کی دسترس میں مکمل نہیں ہوں میں
لکھی ہوئی کتاب کے باہر بھی سن مجھے
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
بہت چھوٹا سفر تھا زندگی کا
میں اپنے گھر کے اندر تک نہ پہنچا
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
پھول باہر ہے کہ اندر ہے مرے سینے میں
چاند روشن ہے کہ میں آپ ہی تابندہ ہوں
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
ایک بچہ ذہن سے پیسہ کمانے کی مشین
دوسرا کمزور تھا سو یرغمالی ہو گیا
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے