حوصلے کا ٹوٹتا نشہ
زندگی کا سفر چل رہا ہے مگر
راہ کے پیچ و خم اور مسائل کے بھوت
دھند کی کالی تلوار ہاتھوں میں لے کر
مرے سامنے آتے جاتے رہے
خواہشوں کی کرن خواب کی روشنی جگمگاتی رہی
آرزوؤں کی تکمیل پر
اک نئی آرزو سر اٹھاتی رہی
ابن آدم ہوں میں
عقل اور آگہی میری پہچان ہے
آسمان و زمیں کی سبھی نعمتیں
خوشبوئیں عورتیں
پیڑ پودے سمندر ندی پھول پھل
میری خاطر ہے سب کی نمود
سب یہ سچ ہے مگر ایک سچ یہ بھی ہے
سانس کی ڈوریوں سے بنا حوصلہ
سانس کے ساتھ ہی ٹوٹ جانے کو ہے
موت کا دیوتا
اپنی اس فتح پر مسکرانے کو ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.