Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

پتھر مری وفا کا

فہمیدہ ریاض

پتھر مری وفا کا

فہمیدہ ریاض

MORE BYفہمیدہ ریاض

    اسی اکیلے پہاڑ پر تو مجھے ملا تھا

    یہی بلندی ہے وصل تیرا

    یہی ہے پتھر مری وفا کا

    اجاڑ چٹیل اداس ویراں

    مگر میں صدیوں سے اس سے لپٹی ہوئی کھڑی ہوں

    پھٹی ہوئی اوڑھنی میں سانسیں تری سمیٹے

    ہوا کے وحشی بہاؤ پر اڑ رہا ہے دامن

    سنبھالا لیتی ہوں پتھروں کو گلے لگا کر

    نکیلے پتھر

    جو وقت کے ساتھ میرے سینے میں اتنے گہرے اتر گئے ہیں

    کہ میرے جیتے لہو سے سب آس پاس رنگین ہو گیا ہے

    مگر میں صدیوں سے اس سے لپٹی ہوئی کھڑی ہوں

    اور ایک اونچی اڑان والے پرند کے ہاتھ

    تجھ کو پیغام بھیجتی ہوں

    تو آ کے دیکھے

    تو کتنا خوش ہو

    کہ سنگریزے تمام یاقوت بن گئے ہیں

    دمک رہے ہیں

    گلاب پتھر سے اگ رہا ہے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے