نظم
ہم اداس لڑکوں سے کون پوچھنے آئے
دن کہاں گزرتا ہے
رات کیسے کٹتی ہے
دوپہر میں جلتے ہو
شام کیسی لگتی ہے
خواب کس کو کہتے ہیں
نیند کیسی ہوتی ہے
ہم اداس لڑکوں سے کون پوچھنے آئے
سب سے کیوں نہیں ملتے
رہ رہے ہو کیوں تنہا
چاہیئے تمہیں آخر
گھر کا کیوں وہی کمرہ
جس میں چاہنے پر بھی
جی کبھی نہیں لگتا
ہم اداس لڑکوں سے کون پوچھنے آئے
کس کی یاد میں گم ہو
کیسے زخم سیتے ہو
بھوک کیوں نہیں لگتی
ایسے کیسے جیتے ہو
کتنی سگرٹیں دن میں
کتنی چائے پیتے ہو
ہم اداس لڑکوں سے کون پوچھنے آئے
اور جب نہیں کوئی پوچھتا
تو یہ لڑکے
گر کے گہرے پانی میں یا تو پھول جاتے ہیں
خودکشی کی چوکھٹ پر خود کو بھول جاتے ہیں
چوم کر کوئی رسی اس پہ جھول جاتے ہیں
ان اداس لڑکوں کا
ایسے انت ہوتا ہے
ایسے انت سے پہلے
ان اداس لڑکوں کا
ہاتھ تھام لو یارو
اور لگاؤ سینے سے
اور پھر کہو ان سے
آپ یہ قرینے سے
مشکلیں تو حل ہوں گی
زندگی کو جینے سے
ہو گیا جو ہونا تھا
تم جیا کرو پیارے
کیا اداس رہتے ہو
مت رہا کرو پیارے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.