Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

آخری علاج

جاوید ہمایوں

آخری علاج

جاوید ہمایوں

MORE BYجاوید ہمایوں

    مرے لہو میں زخم ہے

    جو سبز ہے نہ سرخ ہے

    یہ گیلا ہے نہ خشک ہے

    کہ جس طرح جبین و چشم میں کوئی سراب ہو نہ آب ہو

    نہ وحشت و ملال ہو

    کہ جیسے اک چراغ ہو بجھا بجھا جلا جلا

    نہ درد ہے نہ ٹیس ہے

    کہ جیسے وقت جنگ

    چشم اسپ میں نہ حیرت و سوال ہو

    اسی سے میری زندگی

    اسی سے صبح و شام کی یہ رونق و شفق بھی ہے

    مرے طبیب کی صلاح مختلف

    فساد خون سے دیار جسم ہی بکھر گیا

    چراغ زخم سے اگر نواح جان زرد ہو گیا

    بچے گا کیا

    کہ زخم سے لہو ہی کیا

    بدن کے سارے عضو میں

    فشار و انتشار کا ہجوم بے مہار جب اٹھے گا تو

    دماغ کو کرے گا لا مکان بھی

    مرا طبیب کم پڑھا غبی بھی ہے اسے خبر نہیں ذرا

    حکیم ارسطو نے کیا کہا

    لہو سے دل کا سلسلہ ازل سے ہے

    لہو نہیں تو دل نہیں جو دل نہیں لہو نہیں

    دماغ حکمراں ضرور ہے

    مگر یہ قلب و نور میں اسیر ہے

    طبیب نامراد نے جو شاہ کا غلام ہے

    بطور حکم مشورہ دیا مجھے

    لہو کو میں بدن سے ہی نکال دوں

    یہ جرمنی کا نسخۂ جدید ہے

    کھجور کے علاقے میں یہ نسخہ کارگر ہوا

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے