آخری علاج
مرے لہو میں زخم ہے
جو سبز ہے نہ سرخ ہے
یہ گیلا ہے نہ خشک ہے
کہ جس طرح جبین و چشم میں کوئی سراب ہو نہ آب ہو
نہ وحشت و ملال ہو
کہ جیسے اک چراغ ہو بجھا بجھا جلا جلا
نہ درد ہے نہ ٹیس ہے
کہ جیسے وقت جنگ
چشم اسپ میں نہ حیرت و سوال ہو
اسی سے میری زندگی
اسی سے صبح و شام کی یہ رونق و شفق بھی ہے
مرے طبیب کی صلاح مختلف
فساد خون سے دیار جسم ہی بکھر گیا
چراغ زخم سے اگر نواح جان زرد ہو گیا
بچے گا کیا
کہ زخم سے لہو ہی کیا
بدن کے سارے عضو میں
فشار و انتشار کا ہجوم بے مہار جب اٹھے گا تو
دماغ کو کرے گا لا مکان بھی
مرا طبیب کم پڑھا غبی بھی ہے اسے خبر نہیں ذرا
حکیم ارسطو نے کیا کہا
لہو سے دل کا سلسلہ ازل سے ہے
لہو نہیں تو دل نہیں جو دل نہیں لہو نہیں
دماغ حکمراں ضرور ہے
مگر یہ قلب و نور میں اسیر ہے
طبیب نامراد نے جو شاہ کا غلام ہے
بطور حکم مشورہ دیا مجھے
لہو کو میں بدن سے ہی نکال دوں
یہ جرمنی کا نسخۂ جدید ہے
کھجور کے علاقے میں یہ نسخہ کارگر ہوا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.