Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

اجڑے ہوئے ساحلوں کی کہانی

فہیم جوزی

اجڑے ہوئے ساحلوں کی کہانی

فہیم جوزی

MORE BYفہیم جوزی

    میں بکھرتی چاپ ہوں

    اور ساحلوں سے لوٹ کر آتی صداؤں کو سنا کرتا ہوں

    لیکن کیاریاں پیلے گلابوں کی مہکتی ہیں

    تو تم سے کچھ نہیں کہتا ذرا سا مسکراتا ہوں

    کہ تم مجھ سے کہو میری کہانی اور میں سنتا ہی جاؤں

    لفظ بن کر سامنے آؤں

    کہ جس کو تم بھلا دیتی ہو اکثر

    اور مجھ سے پوچھتی ہو اجنبی بن کر

    صدائیں بیت جاتی ہیں

    کہانی بیت جائے گی

    مگر اک چاپ ہے

    جو شب کی گہری سرد تنہائی میں سارے شہر

    کی گلیوں میں پھرتی ہے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے