تب اور اب
ہائے کیا دن تھے وہ
جب نظر میں محبت کا احساس تھا
ایک اک لفظ احساس کا داس تھا
اپنا ہر ایک لمحہ بہت خاص تھا
سب خوشی کے پرند
اپنے آنگن کے پنجرے میں تھے
چاند خوشبو صبا رنگ نم تتلیاں
قہقہے چشم و دل کے جھروکے میں تھے
ہم کسی کی نگاہوں کے حلقے میں تھے
ساری دنیا کے سکھ اپنے لہجے میں تھے
ہم تو نشے میں تھے
چاند تاروں سے گپ شپ کا معمول تھا
سنگ ریزہ بھی اپنے لیے پھول تھا
یہ بلا کا سفر بھی فقط دھول تھا
اب یہ حالات ہیں
ہم امنگوں کی اجڑی ہوئی رات ہیں
سبز پیڑوں سے بچھڑے ہوئے پات ہیں
حرف ہیہات ہیں
یہ ترے ہجر ہی کے کرامات ہیں
اب کوئی روشنی
کم نظر کی نگاہوں کو بھاتی نہیں
کوئی سپنوں کی لو
آنکھ کی پتلیوں میں اجالا جگاتی نہیں
اب سماعت کو کوئی مدھرتا لبھاتی نہیں
کوئی ہمدم نہیں کوئی ساتھی نہیں
نیند آتی نہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.