لو میرج
جیون کے اک موڑ پر
اک چھتنار سمان
وہ میری رہ روک کر
بولی اے انجان
اور آگے مت جائیو
آگے ہے سنسان
ہریالی اور چھاؤں کا
میں ہوں انت نشان
مجھ سے آگے ریت ہے
تپتی جلتی ریت
ناں کوئی پھول نہ پنکھڑی
ناں کوئی پیڑ نہ کھیت
میں بن باسی بانورا
میں راہی انجان
اس کے اس انداز پر
کھو بیٹھا اوسان
بھولی ساری منزلیں
بھولے سارے دھیان
گھنی گھنیری چھاؤں کو
چاہت کا نروان
جان کے اس کی اوٹ میں
بیٹھ گیا مسحور
بیتا جیون رہ گیا
جانے کتنی دور
چھاؤں اس چھتنار کی
تھی سکھ سے معمور
پلکوں کی تھیں کونپلیں
کاجل سا تھا بور
باہوں جیسی ڈالیاں
جوبن باس سے چور
پریت پون میں جھول کر
مجھ پر آن جھکیں
اپنا سب کچھ بھول کر
مجھ پر آن جھکیں
سپنوں کے اس دھام میں
جیون یوں گزرا
جیسے پہلے مینہ سے
مہکے ہے صحرا
جیسے گل کی گود میں
راج کرے بھنورا
جیسے تَیرے جھیل پر
رات گئے بجرا
دور دور تک سورج کا
نام نشان نہ تھا
یہ سکھ دکھ بن جائے گا
وہم گمان نہ تھا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.