Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

لو میرج

ظہور نظر

لو میرج

ظہور نظر

MORE BYظہور نظر

    جیون کے اک موڑ پر

    اک چھتنار سمان

    وہ میری رہ روک کر

    بولی اے انجان

    اور آگے مت جائیو

    آگے ہے سنسان

    ہریالی اور چھاؤں کا

    میں ہوں انت نشان

    مجھ سے آگے ریت ہے

    تپتی جلتی ریت

    ناں کوئی پھول نہ پنکھڑی

    ناں کوئی پیڑ نہ کھیت

    میں بن باسی بانورا

    میں راہی انجان

    اس کے اس انداز پر

    کھو بیٹھا اوسان

    بھولی ساری منزلیں

    بھولے سارے دھیان

    گھنی گھنیری چھاؤں کو

    چاہت کا نروان

    جان کے اس کی اوٹ میں

    بیٹھ گیا مسحور

    بیتا جیون رہ گیا

    جانے کتنی دور

    چھاؤں اس چھتنار کی

    تھی سکھ سے معمور

    پلکوں کی تھیں کونپلیں

    کاجل سا تھا بور

    باہوں جیسی ڈالیاں

    جوبن باس سے چور

    پریت پون میں جھول کر

    مجھ پر آن جھکیں

    اپنا سب کچھ بھول کر

    مجھ پر آن جھکیں

    سپنوں کے اس دھام میں

    جیون یوں گزرا

    جیسے پہلے مینہ سے

    مہکے ہے صحرا

    جیسے گل کی گود میں

    راج کرے بھنورا

    جیسے تَیرے جھیل پر

    رات گئے بجرا

    دور دور تک سورج کا

    نام نشان نہ تھا

    یہ سکھ دکھ بن جائے گا

    وہم گمان نہ تھا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے