سرکس کا گھوڑا
سپید اور بھورا بدن کا چھریرا
وہ نٹ کھٹ بچھیرا
خریدا گیا گاؤں کے ایک میلے میں
لایا گیا ہنٹروں، چابکوں کی پراسرار دنیا میں
سیکھے وہ دلچسپ انمول کرتب
اڑے پھیلتے چیختے دائروں میں
پھلانگے سلگتی بھیانک تکونیں
اٹھا کے چلے پیٹھ پر رقص کرتے ہوئے بندروں کو
اشاروں کی آواز سن کر وہ لپکے ہنسے ہنہنائے
تماشائیوں کو لبھائے رجھائے
وہ سرکس کا گھوڑا
پریشان شہروں میں کرتب دکھاتا
تماشائیوں کے دلوں کو لبھاتا
تحیر ہنسی قہقہوں تالیوں کی فضاؤں میں برسوں چھلانگیں لگاتا
اسی گاؤں کے ایک میلے میں پہنچا
خریدا گیا تھا جہاں سے وہ بچپن میں لیکن وہاں اب
وہاں کون تھا اس کو پہچاننے والا کوئی نہیں تھا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.