ابر
کل تھے جس شاخ پر غزل خواں ہم
دیکھ کر میگھ کو ہوا پہ سوار
تن بدن میں حسیں ملاروں کے
آنچ سی ناچ ناچ جاتی تھی
جھولے سجتے تھے پینگ پڑتی تھی
انگ کا نقشہ پیرہن کا سرور
شاخ در شاخ عام ہوتا تھا
پیار کا اہتمام ہوتا تھا
آج جس شاخ پر بسیرا ہے
دیکھ کر آسماں کے آنگن میں
بال کھولے ہوئے گھٹاؤں کو
ناگنوں کا سروپ ابھرتا ہے
دل کا ایوان ڈول جاتا ہے
ذہن میں خون رینگ پڑتا ہے
سایۂ مرگ سرسراتا ہے
آشیاں کیا بدل گیا اپنا
منظروں کی نگاہ بھی بدلی
موسموں کا مذاق بھی بدلا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.