تاریخ کا پہلا باب
مجھے سکھایا گیا ہے
میرے ہی باپ دادا نے آ کے اس سر زمین کو نور علم و دانش عطا کیا
ورنہ یاں تو ہر سمت گھور تاریکیاں تھیں
یہ سر زمیں یہ دھرتی مرا وطن
جس کے ذرے ذرے کی دل فریبی پہ میری آنکھیں خوشی سے
موتی بکھیرتی ہیں
یہ اونچے اونچے پہاڑ
اقدار عالیہ کی علامتیں
یہ رواں دواں نرم رو سی ندی
نشان طبع رواں
یہ اشجار کے گھنے سائے
گود ماں کی
یہ ڈالیاں جھومتی لہکتی
خیال کے نرم نرم ہلکورے
لالہ و گل
یہ زندگی کے حسین لمحوں کی پتیاں
وہ لوگ آئے
تو ان کے سر میں عقاب تھے
جسم ناگ تھے
دل تھے منجمد خوں
انہیں پہاڑوں کی ندیوں نے وہ ان کی آنکھوں کا خون دھویا
اسی زمیں نے انہیں حسیں چاندنی عطا کی
مرا یہ جسم اس زمیں کی مٹی
مرے لہو میں جو چاندنی ہے
وہ اس زمیں کے شکم کی آتش نے مجھ کو بخشی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.