Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

تاریخ کا پہلا باب

اعجاز فاروقی

تاریخ کا پہلا باب

اعجاز فاروقی

MORE BYاعجاز فاروقی

    مجھے سکھایا گیا ہے

    میرے ہی باپ دادا نے آ کے اس سر زمین کو نور علم و دانش عطا کیا

    ورنہ یاں تو ہر سمت گھور تاریکیاں تھیں

    یہ سر زمیں یہ دھرتی مرا وطن

    جس کے ذرے ذرے کی دل فریبی پہ میری آنکھیں خوشی سے

    موتی بکھیرتی ہیں

    یہ اونچے اونچے پہاڑ

    اقدار عالیہ کی علامتیں

    یہ رواں دواں نرم رو سی ندی

    نشان طبع رواں

    یہ اشجار کے گھنے سائے

    گود ماں کی

    یہ ڈالیاں جھومتی لہکتی

    خیال کے نرم نرم ہلکورے

    لالہ و گل

    یہ زندگی کے حسین لمحوں کی پتیاں

    وہ لوگ آئے

    تو ان کے سر میں عقاب تھے

    جسم ناگ تھے

    دل تھے منجمد خوں

    انہیں پہاڑوں کی ندیوں نے وہ ان کی آنکھوں کا خون دھویا

    اسی زمیں نے انہیں حسیں چاندنی عطا کی

    مرا یہ جسم اس زمیں کی مٹی

    مرے لہو میں جو چاندنی ہے

    وہ اس زمیں کے شکم کی آتش نے مجھ کو بخشی

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے