شہید ملت و وطن!
شہید ملت و وطن، نبی کے دیں کی آبرو
وہ سر زمیں مجھے حرم گرا جہاں ترا لہو
وہ خاک پاک جس نے تیرے خوں سے کر لیا وضو
صداقتیں شجاعتیں اسی سے پائیں گی نمو
شہید ملت و وطن عزیز دو جہاں ہے تو
شہید تیری ہیبتوں سے موت مات کھا گئی
حیات تیرے فیض سے ابد کا راز پا گئی
بہار شوق کی فضا عجیب گل کھلا گئی
ادائے ناز عاشقی نیاز کو سکھا گئی
چمن کو تیری آرزو چمن ہے تیرا رنگ و بو
ہوس کے بت کدے میں تو نے دی ہے پیار کی اذاں
ضمیر لا الہ تیرے عزم کا ہے رازداں
سدا رہے گی سطوت وطن تری فسانہ خواں
ترے قدم کی برکتیں مکاں مکاں زماں زماں
نہ بندشوں میں رکھ سکا تجھے جہان چار سو
گواہی جان دے کے تو نے دی ہے حق کی ذات پر
چلیں گے قافلے ترے نشان پا کو دیکھ کر
غبار رہ ترا ہے ہر جواں کو سرمۂ نظر
ترے چراغ سے سحر کی مل گئی ہمیں خبر
نہیں ہے قوم کو خطر ہو لاکھ شورش عدو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.