یقین
میں وہ احساس ہوں
موسموں کے جلو میں جو پلتا رہا وقت چلتا رہا
میں وہاں بھی تو تھا
جس سمے آدمی کو ملائک نے سجدہ کیا
لم یزل نے جب ابلیس کو بے نیازی سے راندہ کیا
میں کبھی خلد میں آدمی اور ملائک کی تسبیح تھا
پھر اسے آب و گل کی حسوں سے نوازا گیا
خاک سے سرفرازا گیا
اس کے چہرے سے جنت کا غازہ گیا
میں وہ تنویر ہوں
جس نے تنور سے اٹھتے طوفاں کی لہروں کو بوجھل کیا
شام کی سرزمیں کو قرن ہا قرن دے کے پیغمبری بن میں جل تھل کیا
میں براہیم کے فکر زاروں میں پلتا رہا وقت چلتا رہا
میں نے ابن براہیم کے حوصلے میں جو جلوہ کیا
اس کو نفع و ضرر سے مبرا کیا
میں کہ اسحاق و یعقوب کا ہم نوا ہر نبی کے تیقن میں ڈھلتا رہا
وقت چلتا رہا
آدم و نوح سے لے کے یثرب میں بستے گڈریوں تلک
اہل صفہ سے دنیا کے دیگر علاقوں کے ولیوں تلک
میری پہچان کا نم زمان و مکاں کو بدلتا رہا وقت چلتا رہا
میری لو نے اجالے کئی نیلگوں رنگ بھی سنگ بھی
مجھ سے سیکھے زمانوں کے روندے ہوئے
بے کسوں نے سلیقے بھی اور ڈھنگ بھی
میرے دم سے مہذب ہوئے ننگ بھی
میری برکت سے دنیا پہ آتا ہوا قہر ٹلتا رہا وقت چلتا رہا
سب رشی سارے جوگی سبھی سنت میرے تمنائی ہیں
سب گرو اور چیلے ربی چرچ کے پادری میرے شیدائی ہیں
دیویوں دیوتاؤں کے مندر بھی میری محبت سے خالی نہیں
کون سا شخص ہوگا کہ جس نے مری آرزو دل میں پالی نہیں
میں بلند اور بالا عبادت گہوں مقبروں مندروں گرودواروں
کے بام و در و صحن میں پھولتا اور پھلتا رہا
وقت چلتا رہا
مجھ کو جو پا گیا آیت لا تخافوا ہے اس کے لیے
جس کا میں ہو گیا حسن تبشیر قوموا ہے اس کے لیے
جس سے میں دور ہو جاؤں گا
میں جہاں پاؤں دھر دوں وہاں شانتی
پر انا میرا جوہر نہیں جانتی
کاش دنیا مرا وصف پہچانتی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.