Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

رات کی کربلا اور میں

گوہر نوشاہی

رات کی کربلا اور میں

گوہر نوشاہی

MORE BYگوہر نوشاہی

    رات کی کربلا اور میں

    ایک دشت ابد میری تقدیر کا مرحلہ فیصلے کی حدیں

    اور وہ پتھر سے ماتھا لگائے ہوئے خامشی

    ہاں ابد کے سمندر میں ڈوبے ہوئے نقش میری وراثت نہیں

    رات کی کربلا اور میں

    جتنی ہاتھوں پہ بوجھل لکیریں ہیں میرے لیے ہیں

    مگر کیا کروں

    میں نے اس کے لیے جس قدر نام ڈھونڈے

    سبھی زنگ آلود الفاظ نکلے

    فلک کی صداقت زمیں کی صداقت میں گم ہو گئی

    آسماں نے مقدس پہاڑوں کو بوسہ دیا

    اور دوئی کا نشاں میری ہستی سے رخصت ہوا

    رات کی کربلا اور میں

    آتی جاتی رتوں کا تقاضہ یہی ہے کہ پانی سے پانی جدا ہو

    آتی جاتی رتوں کا تقاضہ وہی جانتا ہے

    جسے سرخ رنگوں میں نیلے بدن کی صداقت ملی

    اور میرا بدن تو ہوا میں معلق ہے

    دودھ اور پانی پنیر اور گندم

    مری آرزو ہے

    سمندر سمندر سیاہی بہے گی

    ہوا اور خواہش ہوا اور رنگت

    ابھی رات کی کربلا میرے سینے پہ ہے

    ہوا کا بدن قافلے کا بدن ہے

    آسماں اور گہرے سمندر کی برکات

    دودھ اور پانی پنیر اور گندم

    مری آرزو ہے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے