رات کی کربلا اور میں
رات کی کربلا اور میں
ایک دشت ابد میری تقدیر کا مرحلہ فیصلے کی حدیں
اور وہ پتھر سے ماتھا لگائے ہوئے خامشی
ہاں ابد کے سمندر میں ڈوبے ہوئے نقش میری وراثت نہیں
رات کی کربلا اور میں
جتنی ہاتھوں پہ بوجھل لکیریں ہیں میرے لیے ہیں
مگر کیا کروں
میں نے اس کے لیے جس قدر نام ڈھونڈے
سبھی زنگ آلود الفاظ نکلے
فلک کی صداقت زمیں کی صداقت میں گم ہو گئی
آسماں نے مقدس پہاڑوں کو بوسہ دیا
اور دوئی کا نشاں میری ہستی سے رخصت ہوا
رات کی کربلا اور میں
آتی جاتی رتوں کا تقاضہ یہی ہے کہ پانی سے پانی جدا ہو
آتی جاتی رتوں کا تقاضہ وہی جانتا ہے
جسے سرخ رنگوں میں نیلے بدن کی صداقت ملی
اور میرا بدن تو ہوا میں معلق ہے
دودھ اور پانی پنیر اور گندم
مری آرزو ہے
سمندر سمندر سیاہی بہے گی
ہوا اور خواہش ہوا اور رنگت
ابھی رات کی کربلا میرے سینے پہ ہے
ہوا کا بدن قافلے کا بدن ہے
آسماں اور گہرے سمندر کی برکات
دودھ اور پانی پنیر اور گندم
مری آرزو ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.