بے بسی
خدا سے عقل نہ ملتی تو کیا پڑی تھی مجھے
کہ اقتدار کی نیت کا تجزیہ کرتا
رگوں میں خون کی گرمی کا معجزہ ہے تمام
وگرنہ آدمی پتھر سے مختلف تو نہ تھا
یہ سب گداز دل و ذہن کا نتیجہ ہے
کہ عمر بھر میں کسی کے لیے اداس رہا
خدا نے مجھ کو بصارت اگر نہ دی ہوتی
تو حسن مجھ پہ بھلا اتنے حشر کیوں ڈھاتا
فقط شعور تناسب ہے اور جمال ہے نام
یہ صرف لمس کی حسرت ہے ورنہ عشق ہے کیا
مجھے اڑان مری قوت خیال نے دی
وگرنہ میرا ستاروں سے کیا تعلق تھا
تو میری فکر میں جلتے ہوئے الاؤ تو دیکھ
برا نہ مان مری تیز و تند باتوں کا
زباں ملی تو مجھے بولنا پڑا ورنہ
خدا کی طرح میں تا روز حشر چپ رہتا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.