Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

شہر غریب

ناصر کاظمی

شہر غریب

ناصر کاظمی

MORE BYناصر کاظمی

    رات سنسان آدمی نہ دیا

    کس سے پوچھوں تری گلی کا پتا

    شہر میں بے شمار رستے ہیں

    کیا خبر تو کدھر گیا ہوگا

    آج کس رو سیاہ آندھی نے

    سبز تاروں کا کھیت لوٹ لیا

    تھم گئے ریت کے رواں چشمے

    سو گیا گیت ساربانوں کا

    آ رہی ہے یہ کس کے پاؤں کی چاپ

    پھیلتا جا رہا ہے سناٹا

    یہ مرے ساتھ چل رہا ہے کون

    کس نے مجھ کو ابھی پکارا تھا

    سامنے گھورتی ہیں دو آنکھیں

    اور پیچھے لگی ہے کوئی بلا

    ڈوبی جاتی ہیں رات کی نبضیں

    آ رہی ہے کوئی مہیب صدا

    اک طرف بے اماں اجاڑ مکاں

    اک طرف سلسلہ مزاروں کا

    سرنگوں چھتریاں کھجوروں کی

    بال کھولے کھڑی ہو جیسے قضا

    یہ دیا سا ہے کیا اندھیرے میں

    ہو نہ ہو یہ مکان ہے تیرا

    دل تو کہتا ہے در پہ دستک دوں

    سوچتا ہوں کہ تو کہے گا کیا

    جانے کیوں میں نے ہاتھ روک لیے

    یہ مجھے کس خیال نے گھیرا

    کسی بے نام وہم کی دیمک

    آ گئی چاٹنے لہو میرا

    دشت شب میں ابھر کے ڈوب گئی

    کسی ناگن کی ہولناک صدا

    تیرے دیوار و در کے سایوں پر

    مجھ کو ہوتا ہے سانپ کا دھوکا

    بوٹا بوٹا ہے سانپ کی تصویر

    پتا پتا ہے سانپ کا ٹیکا

    آسماں جیسے سانپ کی کنڈلی

    تارا تارا ہے سانپ کا منکا

    آ رہی ہے لکیر سانپوں کی

    ہر گلی میں ہے سانپ کا پہرا

    سانپ ہی سانپ ہیں جدھر دیکھو

    شہر تیرا تو گڑھ ہے سانپوں کا

    تیرے گھر کی طرف سے میری طرف

    بڑھتا آتا ہے ایک سایا سا

    دھوپ سا رنگ برق سی رفتار

    جسم شاخ گلاب سا پتلا

    پھول سا پھن چراغ سی آنکھیں

    یہ تو راجا ہے کوئی سانپوں کا

    ہاں مری آستیں کا سانپ ہے یہ

    کیوں نہ ہو مجھ کو جان سے پیارا

    سانپ پالے ہیں عمر بھر لیکن

    ایسا زہری کبھی نہ دیکھا تھا

    ایک ہی پل میں یوں ہوا غائب

    جیسے پانی سے عکس بجلی کا

    کٹ گئی پھر مرے خیال کی رو

    شیشۂ خواب کار ٹوٹ گیا

    ناگہاں سیٹیاں سی بجنے لگیں

    رات کا شہر پل میں جاگ اٹھا

    آنکھیں کھلنے لگیں دریچوں کی

    سانس لینے لگی خموش فضا

    میں تو چپ چاپ چل رہا تھا مگر

    شہر والوں نے جانے کیا سمجھا

    تیری بستی میں اتنی رات گئے

    کون ہوتا بھلا یہ میرے سوا

    ارے یہ میں ہوں تیرا شہر غریب

    تو گلی میں تو آ کے دیکھ ذرا

    سوچتا ہوں کھڑا اندھیرے میں

    تو نے دروازہ کیوں نہیں کھولا

    کس کو آواز دوں کہاں جاؤں

    اپنا سایا بھی ساتھ چھوڑ گیا

    یہاں پھلتا نہیں کوئی آنسو

    یہاں جلتا نہیں کسی کا دیا

    کہاں لے آئی تو مجھے تقدیر

    میں کہاں آ گیا ہوں میرے خدا

    تیرا کیا کام تھا یہاں ناصرؔ

    تو بھلا اس نگر میں کیوں آیا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے