Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

چاپ

MORE BYوزیر آغا

    یہاں اب سے کچھ دیر پہلے

    سیہ زنگ آلود پہیوں کے رکتے سنبھلتے ہوئے شور میں

    زرد آوارہ کتے کی آواز

    سینے کے زندان کو توڑ کر

    ایک قیدی کے مانند باہر کو اڑنے لگی تھی

    وہ گھائل سسکتی ہوئی چیخ

    اب لاکھوں کرچوں میں بٹ کر کراہوں میں ڈھل کر

    نگاہوں کے غرفوں میں خنجر چھپائے

    اندھیرے کے پرہول بن کی تہوں میں اترنے لگی ہے

    اترتی چلی جا رہی ہے

    میں اس اندھی آواز سے بچ نکلنے کی خاطر

    ہزاروں جتن کر چکا ہوں

    دہکتی ہوئی سانس کو اپنے سینے میں روکے

    لہو سے تہی برف کی انگلیاں اپنے کانوں میں ٹھونسے

    اندھیرے کے جنگل میں دبکا پڑا ہوں

    مگر کیا کروں

    اس تعاقب میں آتی ہوئی چاپ کو کیا کروں

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے