کردار
ہم ابھی استادہ تھے
اب سے کچھ پہلے
وفا کے فرش پایندہ پہ
خوش وقتی کے رنگیں شامیانوں کے تلے
اپنے ہاتھوں میں
قرار و قول کی شمعیں لیے
آندھیوں میں زلزلوں میں
تا قیامت ساتھ دینے کے لیے آمادہ تھے
اک دوسرے کے کس قدر دل دادہ تھے
دیکھنے والوں میں شامل
یار بھی اغیار بھی
چند آنکھوں میں نمی
چند آنکھوں میں حقارت برہمی
چند آنکھوں میں سکوت دائمی
جم گئے سائے ادھر
اور کانپ اٹھی اس طرف دیوار بھی
دشمنوں کو بھی یقیں
اور بدگماں کچھ ہم نشیں غم خوار بھی
دیکھنے والوں نے دیکھا
کس طرح صدیاں اچانک ثانیوں میں بٹ گئیں
شامیانوں کی طنابیں کٹ گئیں
فرش پایندہ و مرمر کی سلیں بھی پھٹ گئیں
اور وہ پیکر
خود اپنے آپ
خوں میں تر بتر
خاک پر افتادہ تھے
ہم ابھی استادہ تھے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.