بے نشاں
ہاں یہ سچ ہے ترے نگر میں جہاں
روز چڑھتا ہوا نیا سورج
تیرے اونچے مکان کی چھت پر
جھک کے تجھ کو سلام کرتا ہے
میں بھی رہتا ہوں میرے حصے میں
اک شکستہ سا کلبۂ ویراں
میری مانند اداس اور حیراں
میری قسمت کی نارسائی تھی
کہ کبھی تیری اک اچٹتی نظر
میرے حال زبوں پہ پڑ نہ سکی
میری نوک مژہ پر آ نہ سکا
ایک آنسو جو میرے دل کا حال
تجھ سے اپنی زباں میں کہہ جاتا
عمر بھر منتظر رہا ہوں مگر
اس میں ڈوبے وہ قہقہے تیرے
تیرے اونچے مکاں کے زینوں سے
ایک لمحہ کو بھی اتر نہ سکے
فاصلے دھڑکنوں کے بڑھتے گئے
صدیاں بیتی ہیں مدتیں گزریں
اور میں بے نشان نا معلوم
سوچتا ہوں مری وفا کا مآل
میری خاموشیوں کے لب پہ کبھی
کاش آئے کوئی مچلتا سوال
میری پلکوں سے لوٹ کر کوئی اشک
میرے رخسار پر ڈھلک آئے
تجھ کو میرا سراغ مل جائے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.