سچا جھوٹ
کون کہتا ہے ہوا بے رنگ ہے
کون کہتا ہے کہ رنگوں کی نہیں کوئی صدا
شام کی مدھم ہوا نے آج جب
اس کے رخساروں کو چوما ، اس کے آنچل کو چھوا
اور اس نے مسکرا کر اپنا سر
میرے سینے سے لگایا ، میرے شانوں پر دھرا
میں نے دیکھا
اس گھڑی رنگ ہوا
آرزو کی قوس کے مانند گہرا سرخ تھا
اور جب میرے بدن کے لمس سے
اس کا آنچل اس کے شانوں سے گرا
رنگ پائل کی طرح چھنکے ہوا نے تال دی
گنگنا اٹھی شفق بولا افق ناچی فضا
دل کی ہر دھڑکن پکھاوج کی طرح بجنے لگی
روح کا ہر راگ رنگوں کی صدا سے بھر گیا
کون کہتا ہے ہوا بے رنگ ہے
کون کہتا ہے کہ رنگوں کی نہیں کوئی صدا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.