ہوا
ایسا کہاں دیکھا تھا پہلے موسم کا بیوہار
پل کے پل میں مٹ جاتا ہے ہنستا بستا گاؤں
ریت گھروندے کی صورت اڑ جاتا ہے گھر بار
قاتل بن کر منڈلاتی ہے اپنی چھت کی ٹین
اپنے جگر میں گڑ جاتا ہے اپنا ہی شہتیر
زخمی کر دیتے ہیں تن کو اپنے خس و خاشاک
پلک جھپکتے ہو جاتے ہیں ملبوں میں مدفون
نغمہ خوشبو کونپل ممتا چاہت پیار سنگار
ایسا کہاں دیکھا تھا پہلے تم نے ہوا کا رنگ
خوشبو کی کبھی لہر کبھی ہے تیغ کی دھار ہوا
کبھی پنگورا اور کبھی ہے تختۂ دار ہوا
جیسے کسی پاگل ہاتھی کا آلۂ کار ہوا
جیسے مہا کالی کے روپ کا ہے اوتار ہوا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.