زخم سحر
نا رسا دست تمنا کی طرح
سرخ ہوتا ہے سحر کا آنچل
اجنبی منبر و محراب و دریچے تاباں
ساعت طالع بیدار پہ نازاں نازاں
اپنے قد سے بھی ذرا اور بلند و بالا
سورج ابھرا تو جبینوں سے کرن بھی پھوٹی
دھوپ چمکی ہے تو آنگن میں اجالا امڑا
اور کچھ دور بہت دور نہیں
شوخ رنگین اجالوں کے قریں
کتنے گہرے ہیں دھوئیں کے بادل!
ہم نے تو پھر بھی کھلونوں سے بہلنا چاہا
شہر گل میں ہمیں خوشبوئے وفا یاد آئی
ارض کشمیر سے ویتنام تلک
امن کے خواب سے نیپام تلک
ماند پڑتی ہوئی چہروں کی جلا یاد آئی
دیس پردیس کے زخموں کی حنا یاد آئی
دل کی کیا بات سدا سے پاگل
سرخ ہوتا ہے سحر کا آنچل
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.