Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

نیا عہد نامہ

اسلم انصاری

نیا عہد نامہ

اسلم انصاری

MORE BYاسلم انصاری

    نیا عہد نامہ

    ابھی میرے اعماق جاں میں نہاں ہے

    ابھی سنسناتے ہیں میری رگوں میں

    وہ الفاظ جن کی حسیں معنویت کا چہرہ کسی نے بھی دیکھا نہیں ہے

    وہ الفاظ جو خامشی کے اندھیروں میں پتھر ہیں لیکن

    اگر کوئی موج ان کو ساحل پہ لائے

    تو ان کی چمک موتیوں سے فزوں ہو

    نئے عہد نامے کا سورج ابھی

    میرے خوں کی سیہ رنگ گدلی سی دلدل میں الجھا ہوا ہے

    ابھی اس کی زرد اور مجروح کرنیں

    مری بے زبانی پہ نوحہ کناں ہیں

    مگر اس کی روشن کشادہ جبیں پر

    کس عفریت کے ناخنوں کے نشاں ہیں

    نیا عہد نامہ

    مری آگہی کے دریچوں سے باہر

    شگفتہ شگوفوں خوش آہنگ شاخوں

    شفق رنگ پھولوں میں پتوں میں کلیوں میں سویا ہوا ہے

    ابھی اس کے الفاظ لکھے گئے ہیں

    نہ اوراق گل پر نہ اوراق جاں پر

    ابھی اس کی تنزیل کا زمزمہ ہے

    نہ تیرے لبوں پر نہ میری زباں پر

    نیا عہد نامہ

    ابھی نا نوشتہ سہی پھر بھی اس کی

    عبارات جو میرے اور تیرے خوں کی

    سیہ رنگ دلدل میں الجھی ہوئی ہیں

    در دل پہ ہر روز دیتی ہیں دستک

    کہ خواب گراں کی یہ تلوار کب تک

    تمہیں اور مجھ کو ہمیں سب کو یوں کاٹتی ہی رہے گی

    یہ تشنہ بلا کب تلک میری اور تیری

    صبحوں کا خوں چاٹتی ہی رہے گی

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے