نیا عہد نامہ
نیا عہد نامہ
ابھی میرے اعماق جاں میں نہاں ہے
ابھی سنسناتے ہیں میری رگوں میں
وہ الفاظ جن کی حسیں معنویت کا چہرہ کسی نے بھی دیکھا نہیں ہے
وہ الفاظ جو خامشی کے اندھیروں میں پتھر ہیں لیکن
اگر کوئی موج ان کو ساحل پہ لائے
تو ان کی چمک موتیوں سے فزوں ہو
نئے عہد نامے کا سورج ابھی
میرے خوں کی سیہ رنگ گدلی سی دلدل میں الجھا ہوا ہے
ابھی اس کی زرد اور مجروح کرنیں
مری بے زبانی پہ نوحہ کناں ہیں
مگر اس کی روشن کشادہ جبیں پر
کس عفریت کے ناخنوں کے نشاں ہیں
نیا عہد نامہ
مری آگہی کے دریچوں سے باہر
شگفتہ شگوفوں خوش آہنگ شاخوں
شفق رنگ پھولوں میں پتوں میں کلیوں میں سویا ہوا ہے
ابھی اس کے الفاظ لکھے گئے ہیں
نہ اوراق گل پر نہ اوراق جاں پر
ابھی اس کی تنزیل کا زمزمہ ہے
نہ تیرے لبوں پر نہ میری زباں پر
نیا عہد نامہ
ابھی نا نوشتہ سہی پھر بھی اس کی
عبارات جو میرے اور تیرے خوں کی
سیہ رنگ دلدل میں الجھی ہوئی ہیں
در دل پہ ہر روز دیتی ہیں دستک
کہ خواب گراں کی یہ تلوار کب تک
تمہیں اور مجھ کو ہمیں سب کو یوں کاٹتی ہی رہے گی
یہ تشنہ بلا کب تلک میری اور تیری
صبحوں کا خوں چاٹتی ہی رہے گی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.