میں اور تم
تم جو سچائی سے ایسے بھاگ رہے ہو
جیسے چیچک چہرے پر رکھی دو آنکھیں
آئینوں سے بھاگ رہی ہوں
تم کو صدیوں کی محکومی نے بخشا ہے
جھوٹ کو جینے کا اک لازمی حصہ کہنا
اور مری آزاد طبیعت جیسے صحرا
جس میں میلوں دور تلک بھی صاف دکھائی دے سکتا ہے
میرے بھائی
ہو سکتا ہے میری فطرت تم کو راس نہ آئے
میں وہ ہوں
جو تہذیبوں کے سارے جھوٹے مکڑی جالے توڑ چکا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.