انتر منتھن
دیوتاؤں نے سمندر کو متھا
زہر بھی اس میں ملا
امرت بھی
زہر پینے کے لیے
ایک ہی ہاتھ بڑھا
دیوتاؤں نے سمندر کو متھا
ایک قطرے کو مگر کون متھے
دیوتا مجھ سے بڑے ہیں تو متھیں میری طرح
ایک قطرے کو ذرا
زہر پی لینے کو تیار ہوں میں
اندر دربار میں ہے کوئی
جو آگے بڑھ کر
بوند منتھن کا اٹھا لے بیڑا
کس نے اپنے کو متھا
میرے سوا
میرے ہی جیسے دوانوں کے سوا
اندر دربار میں کوئی نہیں
سب اٹھ گئے
سناٹا ہے
اب یہاں کوئی نہیں
کوئی نہیں
کوئی نہیں میرے سوا
میں بہت دور سے آیا تھا کہ کوئی ہوگا
دیوتاؤں کے نگر سے تو وہی میری زمیں اچھی تھی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.