Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

انتر منتھن

راہی معصوم رضا

انتر منتھن

راہی معصوم رضا

MORE BYراہی معصوم رضا

    دیوتاؤں نے سمندر کو متھا

    زہر بھی اس میں ملا

    امرت بھی

    زہر پینے کے لیے

    ایک ہی ہاتھ بڑھا

    دیوتاؤں نے سمندر کو متھا

    ایک قطرے کو مگر کون متھے

    دیوتا مجھ سے بڑے ہیں تو متھیں میری طرح

    ایک قطرے کو ذرا

    زہر پی لینے کو تیار ہوں میں

    اندر دربار میں ہے کوئی

    جو آگے بڑھ کر

    بوند منتھن کا اٹھا لے بیڑا

    کس نے اپنے کو متھا

    میرے سوا

    میرے ہی جیسے دوانوں کے سوا

    اندر دربار میں کوئی نہیں

    سب اٹھ گئے

    سناٹا ہے

    اب یہاں کوئی نہیں

    کوئی نہیں

    کوئی نہیں میرے سوا

    میں بہت دور سے آیا تھا کہ کوئی ہوگا

    دیوتاؤں کے نگر سے تو وہی میری زمیں اچھی تھی

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے