چیل
کمرے کی اکلوتی آنکھ سے باہر جھانکو
کول کی بھیگی سڑکیں دیکھو
گرد میں لپٹی، چوروں کی بے کل آواز میں
اپنے لرزتے، کانپتے ہونٹوں کی آواز ملاؤ
دیکھو، بستی جاگ اٹھی ہے
شیشم کی چوٹی پر بیٹھی
چیل مڑی ہوئی چونچ سے اپنی
الجھے پنکھ سنوار رہی ہے
اوپر، پھیکے صاف فلک پر
چمنی کا بل کھاتا دھواں
اک دھبہ بن کر جھک سا گیا ہے
دھبے کے پنجوں سے نکل کر
چیختے، ہنستے طوطوں کی اک ڈار، کہ یک دم سہم گئی ہے
جامن کے اک جھنڈ پہ گر کر ختم ہوئی ہے!
تم بھی جاگو
تم کیوں بیٹھے، سندر سپنوں میں غلطاں ہو
آنسو کی باریک ردا سے جھانک کے دیکھو
بستی پنکھ سنوار رہی ہے!
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.