Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

آداب سفر

MORE BYمحمد افتخار شفیع

    حسیں لڑکیاں دف بجاتی ہوئی

    کہیں دور پس منظروں میں کھجوروں کے باغات پھیلے ہوئے

    وہ ابوالہول اور نیل تو سب بہت دور ہیں

    ہم ہونق سے صحرا میں

    صحرائیوں کے جلو میں سفر کر رہے ہیں

    سفر کی تھکن سے ہمارے قدم ڈگمگانے لگے ہیں

    سفر ایک پانی کے پیالے میں جیسے سمٹ سا گیا ہے

    ابھی نبض دوراں میں یونہی تری سانس کی دھونکنی چل پڑے گی

    سنو اس گھڑی بس یہی سوچ لینا

    تعفن زدہ آب سادہ کی چھاگل

    کسی شخص کی جان سے قیمتی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے