آداب سفر
حسیں لڑکیاں دف بجاتی ہوئی
کہیں دور پس منظروں میں کھجوروں کے باغات پھیلے ہوئے
وہ ابوالہول اور نیل تو سب بہت دور ہیں
ہم ہونق سے صحرا میں
صحرائیوں کے جلو میں سفر کر رہے ہیں
سفر کی تھکن سے ہمارے قدم ڈگمگانے لگے ہیں
سفر ایک پانی کے پیالے میں جیسے سمٹ سا گیا ہے
ابھی نبض دوراں میں یونہی تری سانس کی دھونکنی چل پڑے گی
سنو اس گھڑی بس یہی سوچ لینا
تعفن زدہ آب سادہ کی چھاگل
کسی شخص کی جان سے قیمتی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.