انجان راہیں
کہاں کو لے کے جاتی ہیں ہمیں انجان راہیں یہ
پتا منزل کا دیتی ہیں یا پیچھے چھوڑ جاتی ہیں
ہماری آرزوؤں کا یہ ماتھا پھوڑ جاتی ہیں
انہی انجان راہوں میں کسی انجان چہرے کی
نگاہوں سے نگاہیں چار مل کے ہو بھی جاتی ہیں
مگر ان کے بھی ملنے سے کہاں کھلتی ہیں یہ راہیں
ہماری زندگانی بھی تو اک انجان رستہ ہے
خبر ہم کو نہیں ہوتی کسی بھی موڑ کی پھر بھی
بس اک موہوم سی امید پر ہم چل تو پڑتے ہیں
کہ شاید کوئی مل جائے نظر جس سے ملا لیں ہم
کچھ اپنی بات کہہ لیں ہم کچھ اس کے بھید پا لیں ہم
مگر انجان راہوں پر کسی انجان سے مل کر
سلجھتی کب ہیں یہ گرہیں ہماری زندگانی کی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.