ماضی
قسمت کا کب اپنی رونا روتے تھے
جیب میں بس دو چار ہی سکے ہوتے تھے
لٹکن پر ٹھیلوں میں پانی ہوتا تھا
سوندھی مٹی والے آنگن ہوتے تھے
آنگن میں چھوٹی سی کیاری ہوتی تھی
جس میں بیلا اور چنبیلی ہوتے تھے
کھپریلوں کا سر پہ سایہ ہوتا تھا
دروازے پر ٹاٹ کے پردے ہوتے تھے
باندھوں والے کھرے پلنگ پر اے نجمیؔ
پاؤں پسارے شب بھر چین سے سوتے تھے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.