Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

کار گل

انو رضوی

کار گل

انو رضوی

MORE BYانو رضوی

    خاموش ہے وادی کوئی آواز نہیں ہے

    جو حوصلہ دیتا تھا وہی ساز نہیں ہے

    ماں روتی ہے اب اس کو کوئی کیسے سنبھالے

    آنکھوں کے دیے بجھ گئے اے گود کے پالے

    سرحد پہ نہ آنچ آنے دی ایسے تھے جیالے

    ہنستا تھا جو کل آج وہ جانباز نہیں ہے

    خاموش ہے وادی کوئی آواز نہیں ہے

    آغاز میں انجام کا ڈر ان کو نہیں تھا

    رستہ میں کوئی خوف و خطر ان کو نہیں تھا

    ڈر مرنے کا دوران سفر ان کو نہیں تھا

    انجام سے اچھا یہاں آغاز نہیں ہے

    خاموش ہے وادی کوئی آواز نہیں ہے

    ویروں کے بچھڑ جانے سے ہر آنکھ ہے پرنم

    سرحد کے جوانوں کا ہر اک گھر میں ہے ماتم

    ماں بہنوں کی آنکھوں کے دیے ہو گئے مدھم

    اب دل کے دھڑکنے کا وہ انداز نہیں ہے

    خاموش ہے وادی کوئی آواز نہیں ہے

    کیا عزم تھا کس عزم سے وہ جنگ لڑے تھے

    دشمن کی طرف جوش میں ہر لمحہ بڑھے تھے

    لہرانے ترنگا وہی چوٹی پہ چڑھے تھے

    اس عزم سے اونچی کوئی پرواز نہیں ہے

    خاموش ہے وادی کوئی آواز نہیں ہے

    تم ویر تھے اور ویر کبھی مر نہیں سکتا

    جو کام کیا تم نے کوئی کر نہیں سکتا

    یوں موت کا دامن تو کوئی بھر نہیں سکتا

    دشمن کو میسر بھی یہ انداز نہیں ہے

    خاموش ہے وادی کوئی آواز نہیں ہے

    ہر ایک جواں لڑنے کو تیار ہے اب تو

    ہر دل میں نیا جذبۂ پیکار ہے اب تو

    سینوں میں دھڑکتی نئی جھنکار ہے اب تو

    کیا اپنے شہیدوں کا یہ اعجاز نہیں ہے

    خاموش ہے وادی کوئی آواز نہیں ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے