کار گل
خاموش ہے وادی کوئی آواز نہیں ہے
جو حوصلہ دیتا تھا وہی ساز نہیں ہے
ماں روتی ہے اب اس کو کوئی کیسے سنبھالے
آنکھوں کے دیے بجھ گئے اے گود کے پالے
سرحد پہ نہ آنچ آنے دی ایسے تھے جیالے
ہنستا تھا جو کل آج وہ جانباز نہیں ہے
خاموش ہے وادی کوئی آواز نہیں ہے
آغاز میں انجام کا ڈر ان کو نہیں تھا
رستہ میں کوئی خوف و خطر ان کو نہیں تھا
ڈر مرنے کا دوران سفر ان کو نہیں تھا
انجام سے اچھا یہاں آغاز نہیں ہے
خاموش ہے وادی کوئی آواز نہیں ہے
ویروں کے بچھڑ جانے سے ہر آنکھ ہے پرنم
سرحد کے جوانوں کا ہر اک گھر میں ہے ماتم
ماں بہنوں کی آنکھوں کے دیے ہو گئے مدھم
اب دل کے دھڑکنے کا وہ انداز نہیں ہے
خاموش ہے وادی کوئی آواز نہیں ہے
کیا عزم تھا کس عزم سے وہ جنگ لڑے تھے
دشمن کی طرف جوش میں ہر لمحہ بڑھے تھے
لہرانے ترنگا وہی چوٹی پہ چڑھے تھے
اس عزم سے اونچی کوئی پرواز نہیں ہے
خاموش ہے وادی کوئی آواز نہیں ہے
تم ویر تھے اور ویر کبھی مر نہیں سکتا
جو کام کیا تم نے کوئی کر نہیں سکتا
یوں موت کا دامن تو کوئی بھر نہیں سکتا
دشمن کو میسر بھی یہ انداز نہیں ہے
خاموش ہے وادی کوئی آواز نہیں ہے
ہر ایک جواں لڑنے کو تیار ہے اب تو
ہر دل میں نیا جذبۂ پیکار ہے اب تو
سینوں میں دھڑکتی نئی جھنکار ہے اب تو
کیا اپنے شہیدوں کا یہ اعجاز نہیں ہے
خاموش ہے وادی کوئی آواز نہیں ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.