Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

تو جانتا ہے

ادا جعفری

تو جانتا ہے

ادا جعفری

MORE BYادا جعفری

    مجھے منظور تھی راحت نہ سکون ابدی

    میں گنہ گار مجھے سوز نہاں کافی تھا

    میری وارستگیٔ جاں کو

    جہان گزراں کافی تھا

    عشرت درد کو سمجھا تھا خزینہ اپنا

    میں نے سونپا تھا محبت کو سفینہ اپنا

    تو نے دیکھا مرے ماتھے پہ لہو کا قشقہ

    میری آزردہ ہتھیلی میں لہو کی مہندی

    میری مجبور نگاہوں میں لہو کا نوحہ

    میری چاہت بھی مرے خواب بھی غم بھی گھائل

    پس زنداں مرے سرو و ریحاں

    لالہ و گل مرے زنجیر بکف دیکھے ہیں

    جانے کس ہاتھ نے تو جانتا ہے

    میرے آنگن کے اجالوں میں لہو گھول دیا

    اور میں زندہ ہوں

    زندگی کے کہیں مجھ سے بھی ہدف دیکھے ہیں؟

    مأخذ :

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے