تو جانتا ہے
مجھے منظور تھی راحت نہ سکون ابدی
میں گنہ گار مجھے سوز نہاں کافی تھا
میری وارستگیٔ جاں کو
جہان گزراں کافی تھا
عشرت درد کو سمجھا تھا خزینہ اپنا
میں نے سونپا تھا محبت کو سفینہ اپنا
تو نے دیکھا مرے ماتھے پہ لہو کا قشقہ
میری آزردہ ہتھیلی میں لہو کی مہندی
میری مجبور نگاہوں میں لہو کا نوحہ
میری چاہت بھی مرے خواب بھی غم بھی گھائل
پس زنداں مرے سرو و ریحاں
لالہ و گل مرے زنجیر بکف دیکھے ہیں
جانے کس ہاتھ نے تو جانتا ہے
میرے آنگن کے اجالوں میں لہو گھول دیا
اور میں زندہ ہوں
زندگی کے کہیں مجھ سے بھی ہدف دیکھے ہیں؟
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.