بے نشان
میں اب آیا ہوں اتنے برسوں کے بعد
آندھیاں آئیں بدلیاں برسیں
دب گئیں خاک کی تہیں تہ خاک
بہتی مٹی میں بہہ گئی مٹی
میرے نادیدہ پیش رو تری قبر
کس جگہ تھی یہ اب کسے معلوم
یوں ہی اپنے قیاس سے میں نے
ریت کی اک شکن کو پہچانا
مٹتی سطحوں پہ ایک ڈوبتی سطر
اک خط خاک جس پہ کچھ کنکر
میں نے پہلے تو چن کے رکھ بھی دیئے
پھر خیال آیا اب یہ کون کہے
قبر تیری یہیں کہیں تھی مگر
تھی کہاں شاید اس جگہ تو نہ تھی
کچھ جو سوچا نہ جانے کیا سوچا
ذہن میں لاکھ الجھ گئے خاکے
میں نے کنکر وہ سب بکھیر دیئے
بے نشاں خاک میرے سامنے اب
ان جہانوں کا ایک حصہ ہے
جن کے بھیدوں کی تھاہ میں تو ہے
جن کے سایوں کی قبر میں میں ہوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.