Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

دل دشمن

فہمیدہ ریاض

دل دشمن

فہمیدہ ریاض

MORE BYفہمیدہ ریاض

    عاقلوں نے فرمایا

    دل کی بات پاگل پن

    جوش شوق دو اک دن

    حسن و عشق کم مایہ

    آب و گل کی دنیا میں

    سنگ جیسے دل کر لو

    خواب دیکھنے چھوڑو

    پھر بھی کیا کرے کوئی

    دل میں ہوک جب اٹھے

    یہ صدا نکلتی ہے

    ایک بار مل جائے

    ہاتھ تھام لے آ کر

    صرف ایک لمحے کو

    کیسی ہوگی وہ ٹھنڈک

    میرے پیاسے ہاتھوں پر

    اس کے لمس کی شبنم

    سارا درد دھل جائے

    یہ جو جاں سلگتی ہے

    اس کو چین آ جائے

    دل کے زخم کچے ہیں

    دل سدا کا ضدی دل

    پھر بھی ٹھان لیتے ہیں

    عاقلوں کی مانیں گے

    یہ فضول سی باتیں

    اب کبھی نہ سوچیں گے

    دل بھی کیسا دشمن ہے

    بس اسی ارادے سے

    درد کو دباتے ہیں

    دل تو پھر بھی دکھتا ہے

    نیند بھی نہیں آتی

    بن گئی جلن ایسی

    زندگی کی ویرانی

    سونی سونی تنہائی

    کروٹیں بدلتے ہیں

    عاقلوں کے کہنے سے

    درد بھی دبا لیں گے

    زخم بھی چھپا لیں گے

    ہونٹ بھینچ کر اپنے

    روکتے ہیں جب آنسو

    آنکھ میں کھٹکتے ہیں

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے