دل دشمن
عاقلوں نے فرمایا
دل کی بات پاگل پن
جوش شوق دو اک دن
حسن و عشق کم مایہ
آب و گل کی دنیا میں
سنگ جیسے دل کر لو
خواب دیکھنے چھوڑو
پھر بھی کیا کرے کوئی
دل میں ہوک جب اٹھے
یہ صدا نکلتی ہے
ایک بار مل جائے
ہاتھ تھام لے آ کر
صرف ایک لمحے کو
کیسی ہوگی وہ ٹھنڈک
میرے پیاسے ہاتھوں پر
اس کے لمس کی شبنم
سارا درد دھل جائے
یہ جو جاں سلگتی ہے
اس کو چین آ جائے
دل کے زخم کچے ہیں
دل سدا کا ضدی دل
پھر بھی ٹھان لیتے ہیں
عاقلوں کی مانیں گے
یہ فضول سی باتیں
اب کبھی نہ سوچیں گے
دل بھی کیسا دشمن ہے
بس اسی ارادے سے
درد کو دباتے ہیں
دل تو پھر بھی دکھتا ہے
نیند بھی نہیں آتی
بن گئی جلن ایسی
زندگی کی ویرانی
سونی سونی تنہائی
کروٹیں بدلتے ہیں
عاقلوں کے کہنے سے
درد بھی دبا لیں گے
زخم بھی چھپا لیں گے
ہونٹ بھینچ کر اپنے
روکتے ہیں جب آنسو
آنکھ میں کھٹکتے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.