Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

چپ رہو بولو نہیں

جاوید ہمایوں

چپ رہو بولو نہیں

جاوید ہمایوں

MORE BYجاوید ہمایوں

    چپ رہو بولو نہیں

    لفظ ہی تو احتجاجی سلسلے کا نقطۂ آغاز ہے

    درد کی آواز ہے

    بس اسی میں عافیت ہے

    چپ رہو

    بولنا

    اور وہ بھی سچ سچ بولنا

    کون سی دانش وری ہے

    کس جہاں کی سروری تم کو ملے گی

    کس فسون شہر سے چارہ گری تم کو ملے گی

    وقت کی تیرہ شبی سے کون بچ پایا یہاں

    مسند و قالیں سجائے کون بیٹھا ہے یہاں

    زندگی ہے کار گاہ شیشہ گر

    صاحب عقل و خرد یا مومن و درویش و سالک

    دشت و حجرہ میں پناہیں ڈھونڈتے ہیں

    بولنا کم ہے عبادت

    خامشی میں راز ہستی کا سراغ

    جس طرح صندوقچے میں زندگی اک

    سطح دریا پر رہی محو خرام

    کوہ و صحرا گلستان و بوستاں

    طاقچے میں عشق کا مارا چراغ

    بے ثباتی سے سراسیمہ مگر خاموش ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے