چپ رہو بولو نہیں
چپ رہو بولو نہیں
لفظ ہی تو احتجاجی سلسلے کا نقطۂ آغاز ہے
درد کی آواز ہے
بس اسی میں عافیت ہے
چپ رہو
بولنا
اور وہ بھی سچ سچ بولنا
کون سی دانش وری ہے
کس جہاں کی سروری تم کو ملے گی
کس فسون شہر سے چارہ گری تم کو ملے گی
وقت کی تیرہ شبی سے کون بچ پایا یہاں
مسند و قالیں سجائے کون بیٹھا ہے یہاں
زندگی ہے کار گاہ شیشہ گر
صاحب عقل و خرد یا مومن و درویش و سالک
دشت و حجرہ میں پناہیں ڈھونڈتے ہیں
بولنا کم ہے عبادت
خامشی میں راز ہستی کا سراغ
جس طرح صندوقچے میں زندگی اک
سطح دریا پر رہی محو خرام
کوہ و صحرا گلستان و بوستاں
طاقچے میں عشق کا مارا چراغ
بے ثباتی سے سراسیمہ مگر خاموش ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.