Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

سیپیاں

قتیل شفائی

سیپیاں

قتیل شفائی

MORE BYقتیل شفائی

    سمندر کے کنارے سیپیاں چنتے ہوئے بچے

    کچھ ایسے دیکھتے ہیں اپنی اپنی جھولیوں کو

    جیسے بنیے

    گاہکوں کی جیب سے نکلے ہوئے پیسوں کو گن کر

    اپنے دل میں سوچتے ہیں

    نفع اندوزی میں کوئی ان کا ہم پیشہ پڑوسی

    ان سے بھی آگے مبادا بڑھ گیا ہو

    اور پھر اس دوڑ میں

    ہر ایک بنیا چاہتا ہے

    جس طرح بھی ہو وہ اپنے کاروبار نفع اندوزی کی منزل پر پہنچ کر

    اپنے پیچھے آنے والے راہیوں پر مسکرائے

    اپنی جیبیں کھنکھنائے

    اور پھر بھوکی تجوری کی طرف لپکے

    اور اس کے پیٹ میں بھر دے سنہرے قہقہے

    وہ قہقہے

    جو آنسوؤں کے ایک بے پایاں سمندر کی تہوں سے

    سیپیاں بن بن کے آتے ہیں کنارے پر

    جنہیں بھرنے کو آ جاتے ہیں اپنی اپنی جھولی میں

    سمندر کے کنارے سیپیاں چنتے ہوئے بچے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے