سیپیاں
سمندر کے کنارے سیپیاں چنتے ہوئے بچے
کچھ ایسے دیکھتے ہیں اپنی اپنی جھولیوں کو
جیسے بنیے
گاہکوں کی جیب سے نکلے ہوئے پیسوں کو گن کر
اپنے دل میں سوچتے ہیں
نفع اندوزی میں کوئی ان کا ہم پیشہ پڑوسی
ان سے بھی آگے مبادا بڑھ گیا ہو
اور پھر اس دوڑ میں
ہر ایک بنیا چاہتا ہے
جس طرح بھی ہو وہ اپنے کاروبار نفع اندوزی کی منزل پر پہنچ کر
اپنے پیچھے آنے والے راہیوں پر مسکرائے
اپنی جیبیں کھنکھنائے
اور پھر بھوکی تجوری کی طرف لپکے
اور اس کے پیٹ میں بھر دے سنہرے قہقہے
وہ قہقہے
جو آنسوؤں کے ایک بے پایاں سمندر کی تہوں سے
سیپیاں بن بن کے آتے ہیں کنارے پر
جنہیں بھرنے کو آ جاتے ہیں اپنی اپنی جھولی میں
سمندر کے کنارے سیپیاں چنتے ہوئے بچے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.