چائے خانے میں بیٹھا مزدور
چائے خانے میں بیٹھا مزدور
اپنی امید کے بھربھرے خواب ریزے لیے
سر سے پاؤں تلک زندگی کے بکھیڑوں میں الجھا ہوا آدمی
دائیں بائیں کی میزوں سے اٹھتے ہوئے شور سے بے خبر
ویٹر اس سمت دیکھو ارے چار چائے میاں دم تو لے
ایک سو دس ہوئے میز خالی ہے کیا
ایسی بے ربط اور بے سر و پا صداؤں میں بیٹھا ہوا
کپ کی حدت کو انگلی کے پوروں کا رستہ دکھاتے ہوئے
چائے کے سپ کی شیرینیوں سے ورا
آنے والے نئے کل کی بے چینیوں سے پریشان ہے
سامنے شاخ دیوار پر اٹکے ٹی وی کے ہریال منظر نظر کے لیے بوجھ ہیں
رنگ آواز خوشبو طلب ذائقہ
سب جزیرے بکھیڑوں میں الجھے ہوئے آدمی کے لیے کچھ نہیں
جس نظر میں کئی آفتاب اپنی ضو کھو چکے
اس نظر کے لیے رنگ آواز خوشبو طلب ذائقہ کچھ نہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.