Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

چائے خانے میں بیٹھا مزدور

عبدالرحمان واصف

چائے خانے میں بیٹھا مزدور

عبدالرحمان واصف

MORE BYعبدالرحمان واصف

    چائے خانے میں بیٹھا مزدور

    اپنی امید کے بھربھرے خواب ریزے لیے

    سر سے پاؤں تلک زندگی کے بکھیڑوں میں الجھا ہوا آدمی

    دائیں بائیں کی میزوں سے اٹھتے ہوئے شور سے بے خبر

    ویٹر اس سمت دیکھو ارے چار چائے میاں دم تو لے

    ایک سو دس ہوئے میز خالی ہے کیا

    ایسی بے ربط اور بے سر و پا صداؤں میں بیٹھا ہوا

    کپ کی حدت کو انگلی کے پوروں کا رستہ دکھاتے ہوئے

    چائے کے سپ کی شیرینیوں سے ورا

    آنے والے نئے کل کی بے چینیوں سے پریشان ہے

    سامنے شاخ دیوار پر اٹکے ٹی وی کے ہریال منظر نظر کے لیے بوجھ ہیں

    رنگ آواز خوشبو طلب ذائقہ

    سب جزیرے بکھیڑوں میں الجھے ہوئے آدمی کے لیے کچھ نہیں

    جس نظر میں کئی آفتاب اپنی ضو کھو چکے

    اس نظر کے لیے رنگ آواز خوشبو طلب ذائقہ کچھ نہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے