Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

شطرنج کی بساط

ثقلین مشتاق

شطرنج کی بساط

ثقلین مشتاق

MORE BYثقلین مشتاق

    دلچسپ معلومات

    Instresring Facts: A poem inspired by Javed Akhtar’s poem “Yeh Khel Kya Hai”

    سیاہ خانوں سفید خانوں

    میں رکھے مہروں

    کو دیکھ کر میں یہ سوچتا ہوں

    پیادے گھوڑے یہ اونٹ ہاتھی وزیر راجا

    یہ کس کے مہرے ہیں

    کون ان کو چلا رہا ہے

    دماغ کس کا ہے کون مہروں کو کاٹتا ہے

    اگر کہوں دو کھلاڑیوں کی ہے ایک بازی

    دو ہاتھ جو پھر بساط پر ہیں

    بسی ہوئی ہے ہر ایک مہرے کی جان ان میں

    سوال یہ ہے یہ لوگ جو ہیں یہ چال از خود ہی چل رہے ہیں

    یا پھر حقیقت کچھ اور ہی ہے

    جو دکھ رہا ہے فریب ہے یہ

    کوئی تو ان کو چلا رہا ہے

    یہ خود ہیں مہرے کسی کے شاید

    کسی کے ہاتھوں کی جنبشوں میں ہے جان ان کی بھی قید شاید

    سوال اب بھی وہی ہے میرا

    یہ کس کے مہرے ہیں

    کون ان کو چلا رہا ہے

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے