شطرنج کی بساط
دلچسپ معلومات
Instresring Facts: A poem inspired by Javed Akhtar’s poem “Yeh Khel Kya Hai”
سیاہ خانوں سفید خانوں
میں رکھے مہروں
کو دیکھ کر میں یہ سوچتا ہوں
پیادے گھوڑے یہ اونٹ ہاتھی وزیر راجا
یہ کس کے مہرے ہیں
کون ان کو چلا رہا ہے
دماغ کس کا ہے کون مہروں کو کاٹتا ہے
اگر کہوں دو کھلاڑیوں کی ہے ایک بازی
دو ہاتھ جو پھر بساط پر ہیں
بسی ہوئی ہے ہر ایک مہرے کی جان ان میں
سوال یہ ہے یہ لوگ جو ہیں یہ چال از خود ہی چل رہے ہیں
یا پھر حقیقت کچھ اور ہی ہے
جو دکھ رہا ہے فریب ہے یہ
کوئی تو ان کو چلا رہا ہے
یہ خود ہیں مہرے کسی کے شاید
کسی کے ہاتھوں کی جنبشوں میں ہے جان ان کی بھی قید شاید
سوال اب بھی وہی ہے میرا
یہ کس کے مہرے ہیں
کون ان کو چلا رہا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.