گرو نانک
اس زمیں پہ جس گھڑی بے چین تھی یہ زندگی
آدمیت تھی کہاں وحشی بنا تھا آدمی
ابر نفرت سر پہ تھا اور ہر طرف تھی تیرگی
جس گھڑی مدھم پڑی تھی ایکتا کی روشنی
ہاتھ اٹھائے آسماں کی سمت جب انسان نے
بیکس و مجبور کی سن لی دعا رحمان نے
آیا تلونڈی میں جس دم نور جاگ اٹھی سحر
چھٹ گئیں تاریکیاں روشن ہوا عالم کا گھر
سانس لی انسانیت نے خوش ہوا ہر اک بشر
جس پہ نازاں ہے جہاں بیدی کا تھا لخت جگر
آ گیا دنیا میں پھر اک شانتی کا دیوتا
ہاں گرو نانک ہے امن و آشتی کا دیوتا
اس کے ہاتھوں ایکتا کا جام دنیا کو ملا
تھا جو نفرت کا دھواں اذہان پر چھٹنے لگا
دل جو زنگ آلود تھا وہ ایک آئینہ بنا
ایک ہی آواز میں شیخ و برہمن نے کہا
آدمی ہو آدمی کے دل کو مت تکلیف دو
ہے سبق نانک کا لوگو پیار سے دل جیت لو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.