لوری
ننھے ننھے ہاتھوں سے
مانگتے ہو کیا مجھ سے
نیم وا دہن جیسے
کوئی ادھ کھلا غنچہ
مجھ میں ڈھونڈتا کیا ہے
جسم میں تمھارے کیوں
میری روح کھنچ آئی
مجھ سے کیسا رشتہ ہے
کچھ بھی ہو مگر مجھ کو
زندگی سے پیارے ہو
تم تو وہ مسرت ہو
جس کو میں ترستی تھی
میں نے جو نہیں پائی
تم میں آ گیا شاید
حسن میری حسرت کا
آرزو کی رعنائی
تم کو دیکھ کر وہ بھی
آنکھ میں لیے حیرت
فخر سے مسرت سے
مسکرانے لگتا ہے
تم میں لوگ پائیں گے
ثبت کوکھ پر میری
اس کے پیار کا بوسہ
آج دیکھ لے دنیا
کتنا خوبصورت ہے
میرے درد کا غنچہ
میری آنکھ کا آنسو
میرے خون کا قطرہ
تو جو مسکرائے گا
سب دکھن بھلا دوں گی
زیست کی خلش لے کر
میں بھی مسکرا دوں گی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.