مجسمہ
تودۂ سنگ پہ پھیلے ہوئے خوش رنگ نقوش
ایک ترشا ہوا شفاف بدن پیکر خاکی سے ہم آہنگ نقوش
جس پہ بکھرے ہیں مہ و سال کے صدیوں کے غبار
جیسے تاریخ کے اوراق یہ محفوظ سطور
تیرے بت خانوں میں بکھری ہوئی خوشبو کا دھواں
اور کسی شام کے معبد میں کہیں جلتے ہوئے سرد دھوئیں والے چراغ
وہ پر اسرار مہک اور ترے قرب و جوار
کتنی مہکی ہوئی سانسوں کے تقدس کا نشہ
خاک دانوں کے تصرف میں وہ آدم کا وقار
وہ خداؤں کے قرینوں میں خدائی کا شعار
اور یہ گرمیٔ صد شام و سحر
بخش دیتی ہے حرارت ترے اجزا کو مگر
پر تری سرد جبیں ابھری ہوئی ترشی ہوئی پھیلی ہوئی
یہ کسی ماہر فن کا شہکار
خاک انساں کے برابر تو نہیں
تودۂ سنگ ہے یہ خاک کا پیکر تو نہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.