زندگی سے گفتگو
اپسرا
تیری آنکھوں میں پھیلے شفق رنگ دھاگوں کی سوگند ہے
سانس کے ساز بس اپسرا اپسرا کی صداؤں سے معمور ہیں
تجھ میں ندرت کھنک انبساط آشتی رنگ مستور ہیں
تیرے کوچے کے باسی محبت کے احساس سے چور ہیں
تیرے دامن میں سر سبز الفاظ کے بور ہیں
اپسرا
تیرے انداز ہیں دل ربا
کتنی صدیوں کی تشنہ لبی تیری اک دید سے زنگ زادوں کو بینائی دے
تیرے ابرو کی جنبش خزاں زد کو رعنائی دے
تیری بس اک صدا گونگے لفظوں کو گویائی دے
دل زدوں کو مناجات پیمائی دے
اپسرا
تیرے دم سے بہاریں شفق چاندنی روز و شب آس ہے
زندگی کی اک اک رگ میں حدت ہے چاہت ہے احساس ہے
جانتی ہے نا تو کس قدر خاص ہے
مجھ سا درویش بھی جو کسی شے کا لوبھی نہیں ہے ترا داس ہے
تو محبت کے امرت میں بھیگی ہوئی اک لگن اپسرا
تو زمانوں کی غاروں کے سینوں میں مدفون دھن اپسرا
تجھ سے روشن زمیں چاند خورشید تاروں کے بن اپسرا
تو مرے لفظ کی چاشنی میرا فن اپسرا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.