Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ننھے پودے

ظفر مرزاپوری

ننھے پودے

ظفر مرزاپوری

MORE BYظفر مرزاپوری

    ننھے پودوں پہ جو چھائے ہیں تناور اشجار

    ننھے پودوں کی بھی خوراک زمیں سے

    یہ اٹھا لیتے ہیں

    اور سورج کی کرن بھی نہیں آنے دیتے

    کیسے پودے یے بڑھیں

    ان کی خطائیں کیا ہیں

    کیوں حقارت سے یہ زردار

    غریبوں پہ نظر کرتے ہیں

    مانا وہ چاند ہیں

    مزدور بھی تاروں کی طرح روشن ہیں

    یہی تارے ہیں گگن کی زینت

    اور محبوب کے آنچل پہ ستارے ہی نظر آتے ہیں

    یہی تارے کہیں اک ساتھ اگر

    مل بیٹھیں

    روشنی ان کی حسین چاند سے بڑھ سکتی ہے

    ایکتا میں بھی یہی طاقت ہے

    انہیں مزدوروں کے ہاتھوں نے بنائے

    ہیں حسیں تاج محل

    مل کی چمنی سے دھواں ان کی بدولت ہے رواں

    کارخانوں میں پسینے کی جگہ خوں بھی بہا دیتے ہیں

    آگ اور دھوپ میں مزدور جھلس جاتا ہے

    کھیت اور باغ میں ان کی ہی بدولت ہے نکھار

    گرمیوں میں انہیں کھلیان سے فرصت ہے کہاں

    اور برسات میں کھیتوں کی انہیں جان کہیں

    سخت سردی کی سیہ رات میں بھی

    سینچتے رہتے ہیں

    برفیلی ہواؤں میں بھی کھیت

    ان کی محنت کی بدولت ہمیں غلہ ہے نصیب

    اور دھنوان کی خاطر یہ اٹھاتے ہیں محل

    جھونپڑی بھی انہیں رہنے کو میسر ہے کہاں

    وقت بدلا ہے انہیں پہچانو

    یہی کیچڑ بھرے تالاب کھلاتے ہیں کنول

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے