ننھے پودے
ننھے پودوں پہ جو چھائے ہیں تناور اشجار
ننھے پودوں کی بھی خوراک زمیں سے
یہ اٹھا لیتے ہیں
اور سورج کی کرن بھی نہیں آنے دیتے
کیسے پودے یے بڑھیں
ان کی خطائیں کیا ہیں
کیوں حقارت سے یہ زردار
غریبوں پہ نظر کرتے ہیں
مانا وہ چاند ہیں
مزدور بھی تاروں کی طرح روشن ہیں
یہی تارے ہیں گگن کی زینت
اور محبوب کے آنچل پہ ستارے ہی نظر آتے ہیں
یہی تارے کہیں اک ساتھ اگر
مل بیٹھیں
روشنی ان کی حسین چاند سے بڑھ سکتی ہے
ایکتا میں بھی یہی طاقت ہے
انہیں مزدوروں کے ہاتھوں نے بنائے
ہیں حسیں تاج محل
مل کی چمنی سے دھواں ان کی بدولت ہے رواں
کارخانوں میں پسینے کی جگہ خوں بھی بہا دیتے ہیں
آگ اور دھوپ میں مزدور جھلس جاتا ہے
کھیت اور باغ میں ان کی ہی بدولت ہے نکھار
گرمیوں میں انہیں کھلیان سے فرصت ہے کہاں
اور برسات میں کھیتوں کی انہیں جان کہیں
سخت سردی کی سیہ رات میں بھی
سینچتے رہتے ہیں
برفیلی ہواؤں میں بھی کھیت
ان کی محنت کی بدولت ہمیں غلہ ہے نصیب
اور دھنوان کی خاطر یہ اٹھاتے ہیں محل
جھونپڑی بھی انہیں رہنے کو میسر ہے کہاں
وقت بدلا ہے انہیں پہچانو
یہی کیچڑ بھرے تالاب کھلاتے ہیں کنول
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.