پہلی محبت
مسکراتی تھی وہ مجھ کو دیکھ کر
بیل اک انگور کی
گھر کے آنگن میں لگی تھی
میرے ہاتھوں میں پلی تھی
جس کو میں نے چشمۂ الفت کی پہلی موج کے
پہلے پانی سے کیا سیراب تھا
دل میں میرے خواب تھا
خواب تھا میرا کہ اک دن
رس کشیدی کر کے میں اک خوشۂ انگور سے
جسم کے برتن میں اپنی روح کے تشنہ لبوں کی
پیاس کو میں بادۂ عیش آفریں کی نذر کر دوں
سرخیٔ مے سے لبوں کو سرخ کر لوں
جام عشرت سے میں خود کو مست کر لوں
پر جو دل میں خواب تھا
خواب ہی وہ رہ گیا
کوئی شاخ تاک سے
انگور سارے لے گیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.