Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

زیست کے تھل میں

اشکر فاروقی

زیست کے تھل میں

اشکر فاروقی

MORE BYاشکر فاروقی

    دل کا ڈمرو بجاتی ہوئی انگلیاں ساز ہستی کو چھیڑیں اگر

    رنگ و آہنگ کا سیل خوش بار سا زیست کے تھل میں بھی بہہ پڑے

    اور مایوس آنکھوں میں سپنوں کا ڈر بانٹنا واہمہ یہ کہے

    خواب کا دیکھنا ناروا تو نہیں

    خواب کو دیکھنے سے نہ اب تم ڈرو

    درد کے کہر میں لپٹی آنکھو کہو

    خواب کے دائروں کی قزح رنگ برکھا کی رت ناچتے وقت کیسی لگی

    آنکھ میں اب کہیں بھی سفیدی نہیں

    زرد سا آسماں نیلگوں ہو گیا

    اور نظر کہہ اُٹھی

    رنگ پر رنگ کو بے طرح سے ملو

    ساز کو چھیڑ دو

    رقص میں ہے زمیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے